اب اس کے سوا کچھ نہیں تلقین ہماری
اب اس کے سوا کچھ نہیں تلقین ہماری
کر دیجئے گا دشت میں تدفین ہماری
بکھرے ہوئے اوراق ہیں سب روز ازل سے
تم سے نہیں ہو پائے گی تدوین ہماری
کیا جانئے کس وقت بھلا نظر کرم ہو
کب دیکھ لے وہ حالت مسکین ہماری
ہر روح پہ کھلتا نہیں سازینۂ ہستی
سنتے نہیں کم ظرف کبھی بین ہماری
دنیا نے جو پہنائے ہیں وہ ہار الگ ہیں
ممکن ہے کریں آپ بھی توہین ہماری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.