عجب سی الجھنوں کا سامنا ہے
عجب سی الجھنوں کا سامنا ہے
وفا کے سلسلوں کا سامنا ہے
چراغوں کی سجی لمبی قطارو
ہمیں کچھ آندھیوں کا سامنا ہے
نہ جانے دشمنوں کے شہر میں کیوں
پرانے دوستوں کا سامنا ہے
مری آنکھوں سے نیندیں اڑ چکی ہیں
مجھے کچھ خواہشوں کا سامنا ہے
بدن ہے کانچ کا میرا سو مجھ کو
مسلسل پتھروں کا سامنا ہے
ابھی مجھ سے گریزاں ہے مقدر
ابھی کچھ حادثوں کا سامنا ہے
برستی بارشوں کی ہے کہانی
ہوا کو آنسوؤں کا سامنا ہے
ابھی کچھ خواب ہیں آنکھوں میں زوبیؔ
ابھی کچھ رتجگوں کا سامنا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.