تمہارے وعدے بہت ہم نے آزمائے ہیں
تمہارے وعدے بہت ہم نے آزمائے ہیں
قدم قدم پہ ہزاروں فریب کھائے ہیں
یہ اور بات کہ تجھ کو خبر نہیں میری
چراغ کس نے تری راہ میں جلائے ہیں
ورائے دیر و حرم ڈھونڈنا پڑے گا انہیں
نکل گھروندوں سے جو راستے میں آئے ہیں
تمہاری زلف بکھرتی تھی جن کے شانوں پر
تمہاری بزم میں وہ لوگ اب پرائے ہیں
خوشی سے آج ستارے بکھیر دے واصفؔ
وہ آج بام فلک سے اتر کے آئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.