قافلے جب بہار کے نکلے
قافلے جب بہار کے نکلے
یوں ہوا میرے حوصلے نکلے
جو تمہاری زباں نے بخشے ہیں
زخم میرے ہرے بھرے نکلے
ہجر اور وصل رنج اور خوشی
زیست کے کتنے مرحلے نکلے
چاک سینہ کیا تو کیا دیکھا
دل کے سب ٹوٹے آئنے نکلے
ساتھ ہوتے ہوئے بھی دور ہیں ہم
درمیاں کتنے فاصلے نکلے
بادہ نوشی کی چاہ جاگی جب
بند سارے ہی مے کدے نکلے
کچھ تو ہوگا جو اس حویلی سے
بچے سب چیختے ہوئے نکلے
کتنا پر لطف تھا سفر عدنانؔ
میرے پاؤں کے آبلے نکلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.