مہکا ہوا کھلتا ہوا شاداب چمن ہے
مہکا ہوا کھلتا ہوا شاداب چمن ہے
اک روح لطافت ہے کہ جاناں کا بدن ہے
انداز بیاں میں جو یہ بے ساختہ پن ہے
تیری ہی پھبن اور مرے دل کی لگن ہے
دوراں کے بیاباں میں خیاباں تری آغوش
اس دھوپ میں آنچل ہی ترا سایہ فگن ہے
تاریکیٔ ہجراں میں اترتی ہی چلی جائے
امید وصال ایسی لپکتی سی کرن ہے
دم لینے کو بیٹھا ہوں تو اس دم ہوا محسوس
چھالوں میں جلن کتنی ہے کس درجہ تھکن ہے
اے یارو کوئی چارہ کرو شمع جلاؤ
اس گھور اندھیرے میں سفر دونا کٹھن ہے
مہلت ہی کہاں عرض تمنا کی ملی ہے
دل اور زباں میں ابھی گھمسان کا رن ہے
سن لیتے ہیں نا کردہ وفاؤں کے فسانے
محفل میں کسے تیرے سوا تاب سخن ہے
کہہ دیتا ہوں میں سیدھے سبھاؤ سے کھری بات
وہ کہتے ہیں پرویزؔ بڑا صاحب فن ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.