گلشن کو رنگ چاند کو زیبائی دے گیا
گلشن کو رنگ چاند کو زیبائی دے گیا
اک شخص شہر کو مرے رعنائی دے گیا
لمحوں میں ختم ہو گئے رشتے بہار کے
ٹوٹا جو پھول شاخ کو تنہائی دے گیا
راتوں کی نیند روح کی تسکین چھین کر
اس دل کو درد درد کو گہرائی دے گیا
کچھ اس طرح جدا ہوا اس بار مجھ سے وہ
مجھ کو تمام عمر کی تنہائی دے گیا
کرتا رہا وہ دھوپ میں سائے کی جستجو
جیسے کہ زندگی کو شناسائی دے گیا
اتنے گراں ہیں گزرے وہ لمحے وصال کے
ایسے ملا قمرؔ کو وہ گہنائی دے گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.