یا تو بکھروں گا مکمل یا نکھر جاؤں گا
یا تو بکھروں گا مکمل یا نکھر جاؤں گا
میں اگر چپکے سمندر میں اتر جاؤں گا
کس کو معلوم تھا اک حادثہ ہوگا دل کو
میں کہ بگڑا ہوا اک پل میں سدھر جاؤں گا
اپنی تنہائی کے جنگل میں بھٹک کر آخر
خود کو آواز نہ دوں گا تو کدھر جاؤں گا
تلخ دنیا کے سنورنے کی امیدیں لے کر
ہو کے مایوس میں دنیا سے گزر جاؤں گا
کون کہتا ہے کہ ماضی کو بھلایا جائے
پچھلی اغلاط سے سیکھوں گا سدھر جاؤں گا
اپنے زخموں کو میں مشہور نہ ہونے دوں گا
لب پہ مسکان سجاؤں گا جدھر جاؤں گا
میں بھی نازک ہوں کسی پھول کے جیسا ہی وقیعؔ
تیز آندھی جو چلے گی تو بکھر جاؤں گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.