دھڑکن مری گن گائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
دھڑکن مری گن گائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
چہرہ کوئی اترائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
خوابوں کی طرح صحن تمنا میں اچانک
اک پھول جو کھل جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
صحرا میں کہیں دور کسی تشنہ لبوں پر
بارش کوئی برسائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
تنہائی کے رستے پہ سفر کرتے ہوئے جب
سایہ کوئی ساتھ آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
محفل میں تری یاد کا اک نغمۂ خاموش
دھیرے سے کوئی گائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
تاریکئ شب میں مرے ویران مکاں پر
اک چاند اتر آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
ویران سے سنسان سے رستے پہ اسدؔ جب
پائل کوئی چھنکائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.