اپنی بے لوث محبت کو جو رسوا دیکھوں
اپنی بے لوث محبت کو جو رسوا دیکھوں
پھر رواں آنکھ سے ہوتا ہوا دریا دیکھوں
میری آنکھوں پہ یہ پٹی ہی بندھی رہنے دو
مطلبی سب ہیں یہاں کس کو میں اپنا دیکھوں
عمر بھر کے لیے میں گوشہ نشیں ہو جاؤں
میری خواہش ہی نہیں ہے کہ میں دنیا دیکھوں
جو یہ کہتی تھی محبت میں رہوں گی زندہ
ایسی لڑکی کا بھلا کیسے جنازہ دیکھوں
میں نے لوگوں کو بلایا ہے کہ مجھ پر وہ ہنسیں
تری خواہش تھی کہ میں اپنا تماشا دیکھوں
مجھ پہ قابض ہیں جو ویرانیاں اتنی روبیؔ
اب تمنا ہے یہی خود کو میں تنہا دیکھوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.