شب غم کیا کریں کیسے گزاریں
شب غم کیا کریں کیسے گزاریں
کسے آواز دیں کس کو پکاریں
سر بام تمنا کچھ نہیں ہے
کسے آنکھوں سے اس دل میں اتاریں
وہی مبہم سی سرگوشی ہوا کی
وہی افسردہ شمعوں کی قطاریں
وہی دھندلے سے ننھے ننھے سائے
وہی سونی سسکتی رہ گزاریں
کہاں تک یاد غم خواری کرے گی
کہاں تک زلف تنہائی سنواریں
سوائے اس کے اب چارہ ہی کیا ہے
خلا میں اک نیا چہرہ ابھاریں
اٹھو نیندوں سے آنکھوں کو جلائیں
چلو خوابوں کی پریوں کو پکاریں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.