جب تک تو نہ آیا نظر آئی نہیں دنیا
جب تک تو نہ آیا نظر آئی نہیں دنیا
مجھ کو مری آنکھوں نے دکھائی نہیں دنیا
یہ میرے بزرگوں کو وراثت میں ملی ہے
یہ میرے بزرگوں نے کمائی نہیں دنیا
بازو سے پکڑ کر مجھے کل روک لیا تھا
پھر میں نے بھی رستے سے ہٹائی نہیں دنیا
بانہوں کے شکنجے میں جکڑ کر اسے رکھو
معشوق کی نازک سی کلائی نہیں دنیا
بہتے ہوئے پانی کا ہر اک رنگ ہے اس میں
ٹھہرے ہوئے پانی پہ تو کائی نہیں دنیا
دنیا نے رگیدا ہے مجھے جب بھی رگیدا
میرے کبھی چنگل میں تو آئی نہیں دنیا
دنیا کی کوئی کل مجھے سیدھی نہیں لگتی
انسان کے ہاتھوں نے بنائی نہیں دنیا
کل تک میں سمجھتا تھا یہ دنیا ہے کوئی چیز
اب تک مری مٹھی میں تو آئی نہیں دنیا
کھانے کا نمک خود ہی کمانا پڑا مجھ کو
روٹی سے لگا کر کبھی کھائی نہیں دنیا
دستک تو ہوئی ہے مرے دروازے پہ اکثر
لیکن مرے اندر کبھی آئی نہیں دنیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.