Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جب تک تو نہ آیا نظر آئی نہیں دنیا

محمد سلیم طاہر

جب تک تو نہ آیا نظر آئی نہیں دنیا

محمد سلیم طاہر

MORE BYمحمد سلیم طاہر

    جب تک تو نہ آیا نظر آئی نہیں دنیا

    مجھ کو مری آنکھوں نے دکھائی نہیں دنیا

    یہ میرے بزرگوں کو وراثت میں ملی ہے

    یہ میرے بزرگوں نے کمائی نہیں دنیا

    بازو سے پکڑ کر مجھے کل روک لیا تھا

    پھر میں نے بھی رستے سے ہٹائی نہیں دنیا

    بانہوں کے شکنجے میں جکڑ کر اسے رکھو

    معشوق کی نازک سی کلائی نہیں دنیا

    بہتے ہوئے پانی کا ہر اک رنگ ہے اس میں

    ٹھہرے ہوئے پانی پہ تو کائی نہیں دنیا

    دنیا نے رگیدا ہے مجھے جب بھی رگیدا

    میرے کبھی چنگل میں تو آئی نہیں دنیا

    دنیا کی کوئی کل مجھے سیدھی نہیں لگتی

    انسان کے ہاتھوں نے بنائی نہیں دنیا

    کل تک میں سمجھتا تھا یہ دنیا ہے کوئی چیز

    اب تک مری مٹھی میں تو آئی نہیں دنیا

    کھانے کا نمک خود ہی کمانا پڑا مجھ کو

    روٹی سے لگا کر کبھی کھائی نہیں دنیا

    دستک تو ہوئی ہے مرے دروازے پہ اکثر

    لیکن مرے اندر کبھی آئی نہیں دنیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے