اگر پتہ ہو کہ کس طریقے سے کون سا کرب جھیلنا ہے
اگر پتہ ہو کہ کس طریقے سے کون سا کرب جھیلنا ہے
تو پھر سمجھ لو بہت ہی آساں حیات کا کھیل کھیلنا ہے
مرے قبیلے کے کچھ بڑے مجھ کو جاتے جاتے بتا گئے تھے
کہ زندگی میں ہزاروں پاپڑ ہیں کب کسے کیسے بیلنا ہے
یہ دور دور منافقت ہے سو بعد از غور طے کرو یہ
کہ کس کو اپنی نگہ کے زینے سے دل کی جانب دھکیلنا ہے
اے میرے مالک یہ تیری دنیا مجھے بس اتنی سمجھ میں آئی
نہ اس کو سر پے چڑھا کے رکھنا نہ اس کو پیروں سے ریلنا ہے
بغیر مطلب کے چند قطرے بھی پڑ گئے تو بہت ہیں کاشفؔ
بغیر مطلب کے ورنہ کس نے یہاں محبت انڈیلنا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.