تمہارا لہجہ ذرا سا اگر بدلتا ہے
تمہارا لہجہ ذرا سا اگر بدلتا ہے
ہماری روح پہ آرا سا جیسے چلتا ہے
کسی سبب سے اسے کاٹ بھی نہیں سکتے
یہ پیڑ عرصے سے اب پھولتا نہ پھلتا ہے
حساب کرتے ہوئے دھیان میں رہے تیرے
تری طرف بھی مرا کتنا کچھ نکلتا ہے
شدید سردی پڑی تھی ہمارے شہر میں آج
تمہاری یاد کا لیکن الاؤ جلتا ہے
تمہیں بھی روشنی دیں گے یہ تم سے وعدہ رہا
ہمارے بخت کا سورج اگر ابلتا ہے
سو کیوں نہ کر لو ہزاروں بھلے سے تدبیریں
یہ عشق وہ ہے کہ جو جان لے کے ٹلتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.