اردو کا رسم الخط محض چند لکیروں اور دائروں کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہندوستانی تہذیب کی شانوں میں سے ایک شان ہے۔ اپنی خوبصورتی، کم جگہ میں زیادہ الفاظ کھپا دینے کی صلاحیت، فنکارانہ تنوع کے امکانات اور فارسی، عربی، سنسکرت سے اس کے ربط کے سبب سے اردو کا رسم الخط اس زبان کی جان ہے۔ موجودہ حالات میں اردو کا رسم الخط بدلنے کی تجویز درحقیقت اردو کو موت کے گھاٹ اتارنے کی تجویز ہے۔ رنج کی بات یہ ہے کہ اردو کے مخالفین اور دوست نما دشمن، مدت دراز سے اس کے رسم الخط کو اپنی دشمنی کا ہدف بنائے ہوئے ہیں۔
اردو کا رسم الخط بدلنا اردو زبان اور ادب دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ بدلا ہوا رسم خط خواہ رومن ہو یا ناگری، اس سے اردو زبان اور ادب دونوں کو ایسا دھکا پہنچے گا کہ ممکن ہے کہ وہ جاں بر ہی نہ ہو سکیں۔ وہ گراں قدر ادبی سرمایہ جو گزشتہ پانچ چھ سو برس سے اردو کے اپنے رسم خط میں لکھا گیا ہے، تقریباً سارے کا سارا ضائع ہو جائے گا۔ ہم اپنے کلاسیکی متون کے اچھے ایڈیشنوں کے معاملے میں پہلے ہی بہت مفلس ہیں۔ جو تہذیب اور معاشرہ اپنے بڑے ادیبوں کے اہم ترین متون کو بھی بازار میں دستیاب نہیں رکھتا، اس سے توقع کرنا فضول اور خام خیالی ہے کہ وہ اپنے سارے گزشتہ سرمایے کو نئے رسم الخط میں منتقل کر کے اسے عام اور متداول کرے گا۔
اگر رسم الخط بدلا گیا تو دس برس بھی نہ گزریں گے کہ زبان اور ادب دونوں پر خاک اڑنے لگے گی اور اردو کے دشمن دل و جان سے یہی چاہتے ہیں۔ اس وقت تو یہ عالم ہے کہ نہ میر کا کوئی معتبر کلیات بازار میں ملتا ہے، نہ میر انیس کا۔ پریم چند، نذیر احمد، منٹو، راشد الخیری، حسن نظامی، بیدی، امجد حیدر آبادی وغیرہ کا تو پوچھنا ہی کیا ہے۔ لیکن ان کے پرانے ایڈیشن موجود ہیں اور پڑھنے والے انہیں پڑھ بھی سکتے ہیں۔ جب اردو کا رسم خط رومن یا ناگری ہو جائے گا تو آہستہ آہستہ ان کے پڑھنے والے عنقا ہو جائیں گے۔
فرض کیا کوئی صورت ایسی نکل آتی ہے کہ اردو کا سارا اعلیٰ ادب پہلے رومن یا ناگری میں منتقل کر لیا جائے، تو اس کام کے لیے روپیہ ہی اتنا درکار ہوگا کہ ایک پوری حکومت کا خرچ اس سے چل جائے گا۔ دوسری مشکل یہ ہوگی کہ جب اردو رسم خط ہی میں ایسے ایڈیشن نہیں ملتے جن کو پوری طرح صحیح اور لائق اعتماد کہا جا سکے، تو اردو سے ناگری یا رومن میں منتقل کرنے کے لیے کس ایڈیشن کو معتبر مانا جائے گا؟ رسم الخط کی تبدیلی کسی بھی زبان کے لیے خسران عظیم کا باعث ہوتی ہے۔ اردو جیسی بتیس دانتوں میں دبی ہوئی ایک زبان بیچاری کا تو پوچھنا ہی کچھ نہیں کہ رسم خط کھو کر وہ کس قدر مذلت میں گر جائے گی۔
