اردو ادب کی تاریخ میں میر تقی میر اور مرزا اسد اللہ خاں غالب کا نام جب بھی ایک ساتھ لیا جاتا ہے، تو ذہن میں فوراً وہ مشہور حکایت ابھرتی ہے جس کا ذکر مولانا الطاف حسین حالی نے اپنی تصنیف 'یادگارِ غالب' میں کیا ہے۔ حالی کے مطابق، جب غالب نے لڑکپن میں شعر کہنا شروع کیا تو ان کے کچھ اشعار نواب حسام الدین حیدر خاں کے توسط سے میر تقی میر تک پہنچے۔ میر نے ان اشعار کو سن کر جو تاریخی تبصرہ کیا، وہ اردو تنقید کا ایک مستقل باب بن چکا ہے۔ میر نے کہا تھا کہ، 'اگر اس لڑکے کو کوئی کامل استاد مل گیا اور اس نے اس کو سیدھے راستے پر ڈال دیا تو لاجواب شاعر بن جائے گا ورنہ مہمل بکنے لگے گا۔'
یہ حکایت بظاہر بہت دلکش ہے اور دو عظیم تخلیقی ادوار کے درمیان ایک پل کا کام دیتی ہے، لیکن محققین نے اس کی تاریخی صداقت پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ مولانا غلام رسول مہر نے اپنے ایک مضمون میں اس روایت پر تفصیلی بحث کی ہے اور اسے مشکوک قرار دیا ہے۔ ان کی پہلی دلیل یہ ہے کہ حالی کے بیان کردہ الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ واقعہ براہِ راست غالب سے نہیں سنا بلکہ یہ ایک سنی سنائی بات تھی۔
مولانا مہر کے اعتراضات کی بنیاد خالصتاً تاریخی اور نفسیاتی حقائق پر استوار ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ جب غالب کی عمر گیارہ بارہ برس تھی، اس وقت میر تقی میر لکھنؤ میں اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہے تھے۔ میر کی عمر نوے برس کے قریب تھی اور وہ شدید امراض، ضعف اور خاندانی صدمات (جیسے بیٹی، بیٹے اور بیوی کی یکے بعد دیگرے وفات) کے باعث حواس کی وارفتگی کا شکار تھے۔ ایسے میں یہ بات قرینِ قیاس نہیں لگتی کہ آگرہ سے ایک گیارہ سالہ بچے کے اشعار لکھنؤ بھیجے جائیں اور میر جیسا تنک مزاج اور گوشہ نشین بزرگ، جو اپنے ہم عصر اساتذہ کو خاطر میں نہ لاتا ہو، ان اشعار پر اتنی سنجیدہ رائے زنی کرے۔
دوسری جانب، مولانا ابوالکلام آزاد اور مالک رام جیسے اکابرین نے اس روایت کے حق میں بھی دلائل دیے ہیں۔ مولانا آزاد کا خیال تھا کہ غالب کی قدرتی استعداد اتنی غیر معمولی تھی کہ ان کے ابتدائی اشعار کی ندرت کا چرچا لکھنؤ تک پہنچ جانا کوئی ناممکن بات نہیں۔ اسی طرح مالک رام کا ماننا ہے کہ اس زمانے میں اربابِ نظر کی کمی نہیں تھی جو کلام کو بطور تحفہ ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتے۔ ان کے نزدیک اس فقرے پر میر کی مخصوص تنقیدی چھاپ بھی نمایاں ہے۔
تاریخی حقائق جو بھی ہوں، شمیم حنفی کے نزدیک اس روایت کے صحیح یا غلط ہونے سے زیادہ اہم وہ نادیدہ رشتہ ہے جو ان دو عظیم شاعروں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہ حکایت محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ اردو غزل کی عظیم الشان روایت کے تسلسل کا ایک استعارہ ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ ایک نابغہ روزگار شخصیت ہی دوسری نابغہ روزگار شخصیت کے تخلیقی جوہر کو اس کی ابتدا میں پہچان سکتی ہے۔
