دنیا کی ہر بڑی زبان کا اپنا ایک علمِ بلاغت اور علمِ بدیع ہوتا ہے جس کے ذریعے کلام میں حسن اور تاثیر پیدا کی جاتی ہے۔ برج بھاشا اور سنسکرت میں علمِ بدیع کو 'النکار' کہا جاتا ہے۔ چونکہ بلاغت کا اصل مقصد انسانی جذبات اور احساسات پر اثر انداز ہونا ہے، اس لیے ہندی لٹریچر میں جذبات کی نہایت باریک بین اور سائنسی تقسیم کی گئی ہے، جسے 'نورس' (نو رس) کہا جاتا ہے۔
علامہ شبلی نعمانی 'تحفۃ الہند' کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ ہندی علمِ ادب میں تمام احساسات کا استقصا کر کے ان کی نو قسمیں مقرر کی گئی ہیں۔ ان میں 'سرنگار رس' (عشق و محبت جس کی مزید دو قسمیں سنجوگ اور بیوگ یعنی وصال و فراق ہیں)، 'ہاسیہ رس' (مسرت و خوشی)، 'کرنا رس' (رحم و ہمدردی)، 'ویر رس' (شجاعت و بہادری)، 'رَودر رس' (غیظ و غضب)، 'بھے رس' (خوف و بیم)، 'بی بھس رس' (نفرت و کراہت)، 'شانت رس' (سکون و اطمینان) اور 'ادبُھت رس' (استعجاب و حیرت) شامل ہیں۔
یہ تقسیم محض شاعرانہ نہیں بلکہ نفسیاتی اور سائنسی بنیادوں پر استوار ہے۔ ہر 'رس' انسانی فطرت کے ایک خاص پہلو کی نمائندگی کرتا ہے اور شاعر کا کمال یہ مانا جاتا ہے کہ وہ اپنے کلام کے ذریعے قاری یا سامع کے اندر وہی مخصوص 'رس' بیدار کر دے۔
اس مقام پر علامہ شبلی نعمانی ایک نہایت اہم تنقیدی فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ عربی اور فارسی زبان کے علمِ ادب میں جذبات کی اس قسم کی جامع اور سائنسی تقسیم موجود نہیں ہے۔ اس مخصوص لحاظ سے، ہندی علمِ بلاغت کو فارسی اور عربی پر ایک واضح ترجیح حاصل ہے۔
