دور ہوتا تھا بس محبت کا
دور ہوتا تھا بس محبت کا
ایک رستہ تھا بس محبت کا
روح سرشار ہو رہی تھی مری
مجھ پہ سایہ تھا بس محبت کا
اور تو کوئی بات تھی ہی نہیں
اک تقاضا تھا بس محبت کا
اب وہ چوپال کیا ہوئی کہ جہاں
ذکر چلتا تھا بس محبت کا
کتنے خوش حال تھے عوام مرے
اجر ملتا تھا بس محبت کا
جس پہ آ کر رکے تھے ہم دونوں
ایک زینہ تھا بس محبت کا
وہ کوئی قید تو نہیں تھی مگر
دائرہ سا تھا بس محبت کا
اور پھر وہ بھی میں اچھال آیا
ایک سکہ تھا بس محبت کا
ہم حفاظت کے ساتھ بیٹھے تھے
کوئی کونا تھا بس محبت کا
ہائے افسوس تم غلط سمجھے
کوئی بھوکا تھا بس محبت کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.