Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دور ہوتا تھا بس محبت کا

ﻋﺎطف رﺋﯾس ﺻدﯾﻘﯽ

دور ہوتا تھا بس محبت کا

ﻋﺎطف رﺋﯾس ﺻدﯾﻘﯽ

MORE BYﻋﺎطف رﺋﯾس ﺻدﯾﻘﯽ

    دور ہوتا تھا بس محبت کا

    ایک رستہ تھا بس محبت کا

    روح سرشار ہو رہی تھی مری

    مجھ پہ سایہ تھا بس محبت کا

    اور تو کوئی بات تھی ہی نہیں

    اک تقاضا تھا بس محبت کا

    اب وہ چوپال کیا ہوئی کہ جہاں

    ذکر چلتا تھا بس محبت کا

    کتنے خوش حال تھے عوام مرے

    اجر ملتا تھا بس محبت کا

    جس پہ آ کر رکے تھے ہم دونوں

    ایک زینہ تھا بس محبت کا

    وہ کوئی قید تو نہیں تھی مگر

    دائرہ سا تھا بس محبت کا

    اور پھر وہ بھی میں اچھال آیا

    ایک سکہ تھا بس محبت کا

    ہم حفاظت کے ساتھ بیٹھے تھے

    کوئی کونا تھا بس محبت کا

    ہائے افسوس تم غلط سمجھے

    کوئی بھوکا تھا بس محبت کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے