Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ تیری نوازش ہے عنایت ہے کرم ہے

واصف علی واصف

یہ تیری نوازش ہے عنایت ہے کرم ہے

واصف علی واصف

MORE BYواصف علی واصف

    یہ تیری نوازش ہے عنایت ہے کرم ہے

    زندہ ہوں یہ احسان ترا کون سا کم ہے

    شکوہ تو نہیں ہستی اگر وقف الم ہے

    غم خوار نے منہ پھیر لیا مجھ سے ستم ہے

    خود دار ہوں خود سر ہوں میں خود مست ہوں لیکن

    تو سامنے آ جائے تو سر آج بھی خم ہے

    سب تیری فسوں کار نظر کے ہیں کرشمے

    دارا ہے سکندر ہے نہ جمشید نہ جم ہے

    تقدیر بدل جائے تو حاصل بھی ہے تقدیر

    آغاز کی پیشانی پہ انجام رقم ہے

    ایسی ہی اداؤں پہ تو مر جاتے ہیں ہم لوگ

    زندہ ہوں کہ قاتل کو مری موت کا غم ہے

    یادوں کی گزر گاہوں میں اڑتے ہیں بگولے

    سجدوں کا نشاں ہے نہ کوئی نقش قدم ہے

    انداز قلندر کے نہ بے باک ہوں کیونکر

    ہستی کا وجود اس کی نگاہوں میں عدم ہے

    خالی تھی بڑی دیر سے یہ لوح زمانہ

    اب آہ سحرگاہی کے ہاتھوں میں قلم ہے

    سجدہ ہو تو میخانے کے دروازے پہ دل سے

    ساقی کی نظر ہو تو یہی باب حرم ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے