بیشتر رنجشیں سر بہ سر رنجشیں
بیشتر رنجشیں سر بہ سر رنجشیں
کس کو کتنی ہوئیں کیا خبر رنجشیں
حال بھی آپ اب کہتے سنتے نہیں
کر گئیں آپ کے دل میں گھر رنجشیں
ہنس کے ملتے ہیں بس فائدے کے لیے
لوگ سینوں میں بھی پال کر رنجشیں
اب محبت پہ ویسا بھروسہ کہاں
ہو گئی ہیں بہت معتبر رنجشیں
آج خوشیاں خریدی ہیں گھر کے لیے
فائدے میں رہے بیچ کر رنجشیں
جب کہ فرحانؔ الفت ہے آساں بہت
لوگ رکھتے ہیں کیوں اس قدر رنجشیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.