مجھ سے لڑنے کو آئے گا رن میں
مجھ سے لڑنے کو آئے گا رن میں
اتنی ہمت کہاں ہے دشمن میں
وہ کسی اور کا ہوا سن کر
آگ پھیلی ہے اس قدر تن میں
میرا برباد ہونا بنتا تھا
کیا کشش تھی نہ پوچھ اس زن میں
اتنے کمرے بنا دیے گھر میں
اک شجر بھی نہیں ہے آنگن میں
دیکھ سگریٹ جلا تو حل نکلا
خودکشی کا خیال تھا من میں
کون رہتا ہے عمر بھر تنہا
جڑنے والا ہوں جلد بندھن میں
ہر کوئی سیکھتا ہے قبر تلک
کس کو حاصل ہے دسترس فن میں
خود کو ماریں گے دیکھنا مشتاقؔ
ایک گولی بچی ہے اب گن میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.