محبت کا دریچہ بولتا ہے
محبت کا دریچہ بولتا ہے
پھر اس کے بعد صدمہ بولتا ہے
مسافر نے نہیں پائی ہے منزل
تھکے لہجے میں سایہ بولتا ہے
دل معصوم اب ہشیار ہو جا
وہ کیونکر اتنا میٹھا بولتا ہے
اداسی بولتی ہے غیر ہو کے
کہاں اب کوئی اپنا بولتا ہے
تمہاری روح کالی گونگی ٹھہری
ہمارا دل سنہرا بولتا ہے
تو دانا ہے تری یہ بھول ہے اک
ارے نادان سرقہ بولتا ہے
تو ٹیڑھے لوگ پڑ جاتے ہیں پیچھے
اگر کوئی بھی سیدھا بولتا ہے
سمٹ جاتا ہے دیکھو دوپہر میں
بہ وقت شام سایہ بولتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.