Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

محبت کا دریچہ بولتا ہے

مقصود خان علیگ

محبت کا دریچہ بولتا ہے

مقصود خان علیگ

MORE BYمقصود خان علیگ

    محبت کا دریچہ بولتا ہے

    پھر اس کے بعد صدمہ بولتا ہے

    مسافر نے نہیں پائی ہے منزل

    تھکے لہجے میں سایہ بولتا ہے

    دل معصوم اب ہشیار ہو جا

    وہ کیونکر اتنا میٹھا بولتا ہے

    اداسی بولتی ہے غیر ہو کے

    کہاں اب کوئی اپنا بولتا ہے

    تمہاری روح کالی گونگی ٹھہری

    ہمارا دل سنہرا بولتا ہے

    تو دانا ہے تری یہ بھول ہے اک

    ارے نادان سرقہ بولتا ہے

    تو ٹیڑھے لوگ پڑ جاتے ہیں پیچھے

    اگر کوئی بھی سیدھا بولتا ہے

    سمٹ جاتا ہے دیکھو دوپہر میں

    بہ وقت شام سایہ بولتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے