میں نہ پہنچا تھا کہ رہ پر مرا سایہ آیا
میں نہ پہنچا تھا کہ رہ پر مرا سایہ آیا
بن کے میرے لیے رہبر مرا سایہ آیا
سر پہ خورشید کو چمکایا تو بے بس ہو کر
میرے قدموں میں سمٹ کر مرا سایہ آیا
مجھ سے بھی بڑھ کے ہے مشتاق ترا میرا رقیب
مجھ سے بھی پہلے ترے گھر مرا سایہ آیا
نشۂ حسن میں یوں مست تھا قاتل میرا
میرے بدلے تہ خنجر مرا سایہ آیا
رات پڑتے ہی اسی راہ میں تحلیل ہوا
ساتھ جس راہ پہ دن بھر مرا سایہ آیا
اک نجومی نے خبر دی کہ گہر عارفؔ ہے
میں صدف میں تھا کہ باہر مرا سایہ آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.