Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں نہ پہنچا تھا کہ رہ پر مرا سایہ آیا

منظور عارف

میں نہ پہنچا تھا کہ رہ پر مرا سایہ آیا

منظور عارف

MORE BYمنظور عارف

    میں نہ پہنچا تھا کہ رہ پر مرا سایہ آیا

    بن کے میرے لیے رہبر مرا سایہ آیا

    سر پہ خورشید کو چمکایا تو بے بس ہو کر

    میرے قدموں میں سمٹ کر مرا سایہ آیا

    مجھ سے بھی بڑھ کے ہے مشتاق ترا میرا رقیب

    مجھ سے بھی پہلے ترے گھر مرا سایہ آیا

    نشۂ حسن میں یوں مست تھا قاتل میرا

    میرے بدلے تہ خنجر مرا سایہ آیا

    رات پڑتے ہی اسی راہ میں تحلیل ہوا

    ساتھ جس راہ پہ دن بھر مرا سایہ آیا

    اک نجومی نے خبر دی کہ گہر عارفؔ ہے

    میں صدف میں تھا کہ باہر مرا سایہ آیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے