وہ جو کہتے تھے ہم چپیاں چھوڑ دیں
وہ جو کہتے تھے ہم چپیاں چھوڑ دیں
ضد ہماری تھی وہ تلخیاں چھوڑ دیں
کھیل نفرت کا مت کھیلئے یہ نہ ہو
آپ جلتی ہوئی بستیاں چھوڑ دیں
خود جو ممتا کی اس جگ میں پہچان ہیں
کوکھ میں مارنا بچیاں چھوڑ دیں
دھوپ کے ایک ٹکڑے کی ہے التجا
لوگ گھر کی کھلی کھڑکیاں چھوڑ دیں
پہلے میری انہوں نے زباں کاٹ لی
اب نصیحت یہ ہے سسکیاں چھوڑ دیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.