Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لگتا یہی ہے چاہنے والوں کا بوجھ ہے

مہناز انجم

لگتا یہی ہے چاہنے والوں کا بوجھ ہے

مہناز انجم

MORE BYمہناز انجم

    لگتا یہی ہے چاہنے والوں کا بوجھ ہے

    صحرا کے دل میں اس کے غزالوں کا بوجھ ہے

    گلیوں میں سرخ پھول کھلے خاک میں ملے

    شہر سکوت پر بھی سوالوں کا بوجھ ہے

    یوں ہے کہ یہ کرید کی خواہش گئی نہیں

    مجھ میں عجب عجب سے سوالوں کا بوجھ ہے

    لاشیں گرا کے پتوں کی چلتی ہے یہ ہوا

    یوں اس پہ بھی تو درد کے نالوں کا بوجھ ہے

    بوسیدگی کے گھر میں ٹھہرنا پڑا مجھے

    دیوار و در اداس ہیں جالوں کا بوجھ ہے

    تنہائیاں دراز میں رکھ دی گئیں تمام

    الماریوں پہ خوف کے تالوں کا بوجھ ہے

    اک سمت کو جھکے ہوئے پلڑے نے کہہ دیا

    میزان عدل پر بھی ملالوں کا بوجھ ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے