لگتا یہی ہے چاہنے والوں کا بوجھ ہے
لگتا یہی ہے چاہنے والوں کا بوجھ ہے
صحرا کے دل میں اس کے غزالوں کا بوجھ ہے
گلیوں میں سرخ پھول کھلے خاک میں ملے
شہر سکوت پر بھی سوالوں کا بوجھ ہے
یوں ہے کہ یہ کرید کی خواہش گئی نہیں
مجھ میں عجب عجب سے سوالوں کا بوجھ ہے
لاشیں گرا کے پتوں کی چلتی ہے یہ ہوا
یوں اس پہ بھی تو درد کے نالوں کا بوجھ ہے
بوسیدگی کے گھر میں ٹھہرنا پڑا مجھے
دیوار و در اداس ہیں جالوں کا بوجھ ہے
تنہائیاں دراز میں رکھ دی گئیں تمام
الماریوں پہ خوف کے تالوں کا بوجھ ہے
اک سمت کو جھکے ہوئے پلڑے نے کہہ دیا
میزان عدل پر بھی ملالوں کا بوجھ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.