غم دنیا غم الفت کی کہانی لکھوں
غم دنیا غم الفت کی کہانی لکھوں
اور کب تک وہی باتیں میں پرانی لکھوں
اک خلش دل میں جو باقی ہے فقط تیرے سبب
سوچتا ہوں کہ اسے تیری نشانی لکھوں
دل میں رہ رہ کے ابلتے رہے جذبات مرے
کتنی آنکھوں سے ہوئی شعلہ فشانی لکھوں
عارضی کوئی بھی ترکیب نہیں کر سکتا
دائمی کیسے کسی لفظ کا معنی لکھوں
منعکس اس میں بھی ہوتے ہیں سبھی کے چہرے
آئنہ کو بھی میں ٹھہرا ہوا پانی لکھوں
کون اس دشت میں فرحانؔ کا ساتھی ہوگا
کس کے میں نام بھلا صحرا مکانی لکھوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.