کوئی ہوگا وہ تلاطم سے جو ہارا ہوگا
کوئی ہوگا وہ تلاطم سے جو ہارا ہوگا
ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہوگا
حسن بے رنگ بھی جینے کا سہارا ہوگا
دیدۂ دل سے جو مصروف نظارہ ہوگا
وقت کی آڑ میں اک شور تھا طوفانوں کا
میں نے سمجھا تھا کہ ساحل نے پکارا ہوگا
اسی گردش میں ہے جمعیت خاطر کا پیام
یہی طوفان کسی روز کنارا ہوگا
اس کی آہٹ میں کبھی دھوپ کبھی چھاؤں ہے
وقت ہے وقت ہمارا نہ تمہارا ہوگا
راحت قلب و نظر ہے اسی مستقبل میں
اپنے ہاتھوں سے جسے غم نے سنوارا ہوگا
دیکھنے والوں کی آنکھوں کا ہے دھوکا ہندیؔ
رقص بسمل نہیں یہ صبح کا تارا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.