دشت میں قیس نہیں کوہ پہ فرہاد نہیں
دشت میں قیس نہیں کوہ پہ فرہاد نہیں
ہے وہی عشق کی دنیا مگر آباد نہیں
رسم الفت نہیں اور شکوۂ بیداد نہیں
یہ تو کم ظرفیٔ جذبات ہے فریاد نہیں
وہ مری خاک نشینی کے مزے کیا جانے
جو مری طرح تری راہ میں برباد نہیں
ڈھونڈھنے کو تجھے او میرے نہ ملنے والے
وہ چلا ہے جسے اپنا بھی پتہ یاد نہیں
ایک زنجیر طریقت میں بندھے ہیں دونوں
عشق پابند سہی حسن بھی آزاد نہیں
کوہ و تیشہ بھی ہے خسرو بھی ہے شیریں بھی مگر
ہائے بد بختیٔ کہسار کہ فرہاد نہیں
ساز شیریں سے یہ رہ رہ کے صدا آتی ہے
کبھی کہسار بھی آباد تھا یہ یاد نہیں
کوئی پرچھائیں کہیں سے یونہی ٹکرائی ہے
جو بھی فرہاد ہے پرچھائیں ہے فرہاد نہیں
اپنا مے خانہ جو اجڑا ہے تو ایسا اجڑا
پی کے کچھ نشہ بھی ہوتا ہے ہمیں یاد نہیں
اک تصور ہے اسیری ہے نہ آزادی ہے
کوئی بھی قید نہیں کوئی بھی آزاد نہیں
عرش والے نہ سنیں ساری خدائی سن لے
اس قدر پست مذاق لب فریاد نہیں
روح بلبل نے خزاں بن کے اجاڑا گلشن
پھول کہتے رہے ہم پھول ہیں صیاد نہیں
حسن سے چوک ہوئی اس کی ہے تاریخ گواہ
عشق سے بھول ہوئی ہے یہ مجھے یاد نہیں
بربت ماہ پہ مضراب فغاں رکھ دی تھی
میں نے اک نغمہ سنایا تھا تمہیں یاد نہیں
قفس و بلبل و گل سب ہیں یہ فانوس خیال
تیری ہستی سے زیادہ کوئی صیاد نہیں
لاؤ اک سجدہ کروں عالم بد مستی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.