کاروان زندگانی ہے رواں اپنی جگہ
کاروان زندگانی ہے رواں اپنی جگہ
ساز دل اپنی جگہ ہے سوز جاں اپنی جگہ
کچھ نہیں بدلا کہیں تیرے بچھڑ جانے کے بعد
یہ زمیں اپنی جگہ وہ آسماں اپنی جگہ
مصلحت یہ بھی خدا کی دیکھنے کی چیز ہے
منجمد ماحول میں سیل رواں اپنی جگہ
وقت کی رفتار کا دل پر اثر ہوتا نہیں
خواہشیں اپنی جگہ عمر رواں اپنی جگہ
مشق کرتی ہوں مسلسل بھول جانے کی اسے
نام اس کا ہے مگر ورد زباں اپنی جگہ
معتبر دونوں ہیں میناؔ ایک بھی کمتر نہیں
اہل دل اپنی جگہ اہل زباں اپنی جگہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.