ہے ضبط کی توہین کا ڈر شام سے پہلے
ہے ضبط کی توہین کا ڈر شام سے پہلے
کرتا ہی نہیں آنکھ کو تر شام سے پہلے
ممکن ہے سر شب ہی ہمیں حکم سفر ہو
کر لو کسی دیوار میں در شام سے پہلے
پھر تیرگی سر چڑھ کے نہیں بولنے والی
کچھ دیپ جلا لو گے اگر شام سے پہلے
کھلتی ہیں پس شام ہی چہروں سے نقابیں
سب نیک ہی دکھتے ہیں مگر شام سے پہلے
چمکا ہے سیہ رات میں تنہائی کا سورج
ہر شخص مرے ساتھ تھا پر شام سے پہلے
ہم شمع صفت لوگ ہیں سو اس لئے ہم پر
پڑتی ہی نہیں کوئی نظر شام سے پہلے
تا عمر ستائے گی انہیں دشت کی وحشت
گھبرا کے پلٹ آئے جو گھر شام سے پہلے
پرواز پسندوں کے گھرانے سے ہوں کاشفؔ
کیا کام مرا زیر شجر شام سے پہلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.