زندگی میں کس قدر خاموش ہوں
زندگی میں کس قدر خاموش ہوں
بول سکتا ہوں مگر خاموش ہوں
آپ نے جو کہہ دیا وہ کر دیا
آپ کے ہر حکم پر خاموش ہوں
شور ہی بس شور ہے اس کی طرف
اور تنہا میں ادھر خاموش ہوں
تو نے پوچھا بھی نہیں کیا ہو گیا
ایک مدت سے اگر خاموش ہوں
شاہ زادی تجھ سے اب میں کیا کہوں
من میں جو آئے وہ کر خاموش ہوں
سوچ لینا طعنہ زن میں اب تلک
کیوں تمہاری ذات پر خاموش ہوں
تجھ سے ڈر کر چپ رہا ایسا نہیں
مجھ میں ہمت ہے مگر خاموش ہوں
ایک دن اس نے کہا خاموش ہو
تب سے مشتاقؔ اس قدر خاموش ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.