Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

روؤں کہ مسکراؤں میں اس کے نصیب پر

شہزاد احمد

روؤں کہ مسکراؤں میں اس کے نصیب پر

شہزاد احمد

MORE BYشہزاد احمد

    روؤں کہ مسکراؤں میں اس کے نصیب پر

    برسی ہے اب کی بار گھٹا عندلیب پر

    اک عمر ہو چکی ہے کہ میں جانکنی میں ہوں

    عیسیٰ نے چار دن نہ گزارے صلیب پر

    رسوائیوں سے اپنے ہی دامن کو بھر لیا

    میں نے تو خاک بھی نہیں ڈالی رقیب پر

    اس دن سے اپنے دل پہ بھروسہ نہیں رہا

    جب دور کا گمان ہوا تھا قریب پر

    دل اپنی آرزو کے گھروندے میں ہے اسیر

    رستے تمام بند ہوئے ہیں غریب پر

    مخلوق کے سروں سے بھی منبر بلند ہے

    مشکل ہے کوئی ہاتھ اٹھے اب خطیب پر

    برسے ہیں میری آنکھ سے آنسو شب فراق

    اور داغ پڑ گئے ہیں ردائے حبیب پر

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے