بھلا جان کر کون رنجور ہوگا
بھلا جان کر کون رنجور ہوگا
مقدر سے جب تک نہ مجبور ہوگا
کسی سے وفا اب بھی کی ہے کسی نے
کبھی اگلے وقتوں میں دستور ہوگا
تمہاری خوشی پر ہے ملنا نہ ملنا
گوارا کرو گے تو منظور ہوگا
سنوں کیا تمہاری کہ میں جانتا ہوں
وہی بزم دشمن کا مذکور ہوگا
مجھے مار ڈالا یہ کہہ کر کسی نے
جو کچھ تم کہو گے وہ منظور ہوگا
تجھے کیا بتاؤں کہ تو کیا ہے ظالم
کہ یہ سن کے تو اور مغرور ہوگا
جو ہم چاہتے ہیں وہ ہوگا یقیناً
بشرطیکہ تم کو بھی منظور ہوگا
شکایت کے شکووں کی حد بھی ہے آخر
یہ غم آپ کے دل سے کب دور ہوگا
یہ کیا پوچھتے ہو مجھے کیوں دیا دل
سمجھ لو کہ اک شخص مجبور ہوگا
رقیبوں کی طاقت تھی ہم سے الجھتے
تجھے خود ہی ظالم یہ منظور ہوگا
یہاں تو مقدر کو روتے ہی گزری
جو مسرور ہوگا وہ مسرور ہوگا
کہا میں نے ہوگا ستم یوں ہی مجھ پر
تو کہنے لگے ہاں بدستور ہوگا
چھپاؤ قمرؔ لاکھ راز محبت
مگر دیکھ لینا یہ مشہور ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.