طاقت اک آن تحمل کی نہیں یاں اور دوست (ردیف .. ر)
طاقت اک آن تحمل کی نہیں یاں اور دوست
صبر فرمائے ہے مقدور بشر سے باہر
راز دیر و حرم افشا نہ کریں ہم ہرگز
ورنہ واں کیا ہے جو ہو اپنی نظر سے باہر
دل رکا جائے ہے تنگی سے فلک کی ہیہات
نکلوں اس خانۂ بے در کے کدھر سے باہر
دینے کو ملک سلیماں کے بلایا مجھ کو
پر قدم میں نہ رکھا دل کے نگر سے باہر
ہوں وہ آوارہ کہ طفلی ہی میں جوں اشک مجھے
کر دیا مادر ایام نے گھر سے باہر
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.