کسی سے پیار زیادہ کسی سے کم رکھنا
کسی سے پیار زیادہ کسی سے کم رکھنا
تعلقات سبھی سے مگر بہم رکھنا
یہی ہے ریت محبت کی عصر حاضر میں
ہنسی لبوں پہ تو آنکھوں کو اپنی نم رکھنا
میں جانتا ہوں تو اک پل میں ٹوٹ جائے گا
اے میرے کچے گھڑے کچھ مرا بھرم رکھنا
عیاں نہ کرنا کہ رسوائیاں جنم لیں گی
سمیٹ کر سبھی دامن میں اپنے غم رکھنا
یہاں سے آگے کوئی راستہ نہیں قیصرؔ
جو ہو سکے تو ذرا سوچ کر قدم رکھنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.