ہزار دل میں سوال رکھنا اسے نہ کہنا
ہزار دل میں سوال رکھنا اسے نہ کہنا
اور اس ہنر میں کمال رکھنا اسے نہ کہنا
تمہاری ساری اداسیوں کا سبب وہی ہے
یہ ٹھیک ہے پر خیال رکھنا اسے نہ کہنا
وہ اس بہانے پلٹ کے آئے گا دیکھ لینا
کتاب اس کی سنبھال رکھنا اسے نہ کہنا
وہ ترک الفت کی بات چھیڑے تو مان جانا
پھر اپنا جیسا بھی حال رکھنا اسے نہ کہنا
یہ رکھ رکھاؤ ہی شاعری ہے سو میرے شاعر
غزل میں اس کا جمال رکھنا اسے نہ کہنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.