حال دل سے مرے جب تک وہ خبردار نہ تھا
حال دل سے مرے جب تک وہ خبردار نہ تھا
جز دم سرد کوئی محرم اسرار نہ تھا
جو عمل چاہیئے کیجے مرے دکھ دینے کو
وہ نہ کیجے کہ کہے کوئی سزاوار نہ تھا
صحبتوں کا نہ کرو غیر کے مجھ سے اخفا
کون سی شب تھی کہ میں واں پس دیوار نہ تھا
شب تری بزم میں سوداؔ کو میں دیکھا جب تک
کچھ خموشی کے سوا اس کو سروکار نہ تھا
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.