دل جلے غم سے تو آنسو بھی بہائے نہ بنے
دل جلے غم سے تو آنسو بھی بہائے نہ بنے
آگ ایسی نہ لگاؤ جو بجھائے نہ بنے
راز دل پوچھ کے بدلے ہیں کچھ ایسے تیور
کہ چھپانا بھی جو چاہوں تو چھپائے نہ بنے
کچھ نہ کچھ چھیڑ چلی جائے بھلی ہو کہ بری
ہے رلا دینا بھی اچھا جو ہنسائے نہ بنے
تا قیامت نہیں ٹوٹا ہوا دل جڑنے کا
کام ایسا نہ بگاڑو جو بنائے نہ بنے
پانی ہو جائے گا غیرت سے وفا کا موتی
یوں نظر سے نہ گراؤ کہ اٹھائے نہ بنے
درد فرقت سے وہ تڑپاتے ہیں اس طرح منیرؔ
کچھ جو بولوں بھی تو الزام لگائے نہ بنے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.