قلب و نظر پہ کرب کی برسات ہے ابھی
قلب و نظر پہ کرب کی برسات ہے ابھی
دن چڑھ چکا ہے میرے لیے رات ہے ابھی
گھڑتے ہیں لوگ اب بھی فسانے نئے نئے
جیسے کہ میری اس کی ملاقات ہے ابھی
سب نے نیا لباس بدن پر سجا لیا
تنہا ہوں میں کہ جس کی وہی بات ہے ابھی
آندھی اٹھے کہ راہ میں سیل بلا پڑے
کیا مجھ کو فکر تو جو مرے سات ہے ابھی
کھلتے ہیں روز دل میں امنگوں کے پھول سے
اس ہاتھ میں کسی کا حسیں ہات ہے ابھی
چلتی ہے کتنی تیز ہوا دل کے آس پاس
بادل گھرے ہیں شدت جذبات ہے ابھی
درکار ہر گلی کو ہے اک سیل رنگ و بو
کانٹوں کی سارے شہر میں بہتات ہے ابھی
سورج کی آرزو میں جو کرتے ہیں رتجگے
ان سے کہو تسلط ظلمات ہے ابھی
گم ہیں دل و دماغ تو کیا فیصلہ کریں
اپنی نظر میں صورت حالات ہے ابھی
رکھنا ہے سب کے زخم پہ مرہم مجھے مگر
میری نظر میں صرف مری ذات ہے ابھی
اپنا نسب بلند ہے ہم خوار کیوں پھریں
زلفیؔ دلوں میں عزت سادات ہے ابھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.