مت پوچھ یہ غم کیسا یہ کس بات کا ماتم
مت پوچھ یہ غم کیسا یہ کس بات کا ماتم
اپنوں کی نوازش ہے یہ دن رات کا ماتم
ہر شام کو افسوس ہے ڈھلتے ہوئے دن کا
ہر صبح کرے کٹتی ہوئی رات کا ماتم
چل جا کہیں تنہائی میں چپ چاپ سسک لے
اس شہر میں جائز نہیں جذبات کا ماتم
بجتا ہے غزل بن میں تری جیت کا ڈنکا
ہر شعر میں ہوتا ہے مری مات کا ماتم
جاؤ کسی شاعر کو بلا لاؤ کہیں سے
دل کرتا ہے ہوتا رہے بن بات کا ماتم
جس رات وہ خوابوں کا گلا گھونٹ رہا تھا
جاگ اٹھتا ہے ہر رات اسی رات کا ماتم
تم آج یہ کہتے ہو مری جان ہے ناصرؔ
کل تم بھی مناؤ گے مری ذات کا ماتم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.