کس رت کے منتظر ہیں یہ پیڑ راستوں پر
کس رت کے منتظر ہیں یہ پیڑ راستوں پر
خود دھوپ میں کھڑے ہیں سایہ مسافروں پر
مٹی جمی ہوئی تھی جب کوٹ کے کفوں پر
حیرت ہوئی تھی مجھ کو لوگوں کے قہقہوں پر
بھیگے ہوئے اندھیرے آسیب بن گئے تھے
دل ناچنے لگا تھا برسات کی دفوں پر
مانی تھیں میری باتیں اس نے بگڑ بگڑ کے
کیا کیا محل ہوئے تھے تعمیر ابروؤں پر
پھوٹی ہے اک کرن سی بے نور بادلوں سے
میں ہنس پڑا ہوں شاید اپنے ہی آنسوؤں پر
آنکھوں کی پتلیوں نے تصویر تک نہ دیکھی
ابر کرم نہ برسا سوکھے ہوئے لبوں پر
ناؤ الٹ گئی ہے تختے بکھر گئے ہیں
چھائی ہے مردنی سی ٹوٹی ہوئی صفوں پر
پختہ چھتیں تھیں جن کی آنگن تھے صاف ستھرے
گرنے لگیں چٹانیں آ آ کے ان گھروں پر
ویرانیوں کے جنگل شاید ہرے بھرے ہوں
اب جھاڑیاں اگی ہیں آباد راستوں پر
دیوار پر بسنتی بیلیں چڑھی ہوئی ہیں
سبزہ اگا ہوا ہے بیٹھی ہوئی چھتوں پر
جنگل کے اس سفر نے بے حال کر دیا ہے
میں خاک ڈالتا ہوں گزرے ہوئے دنوں پر
گھر میں اداس پھرنا آسان ہو گیا ہے
یا تنگ ہو گئے ہیں رستے مسافروں پر
یہ اور بات آنکھیں مٹی سے بھر گئی ہیں
دیکھے ہیں چند چہرے جاتی ہوئی بسوں پر
شہزادؔ بے دلی کا افسانہ کہہ رہی ہے
پھیلی ہوئی سیاہی لکھے ہوئے خطوں پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.