Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کس رت کے منتظر ہیں یہ پیڑ راستوں پر

شہزاد احمد

کس رت کے منتظر ہیں یہ پیڑ راستوں پر

شہزاد احمد

MORE BYشہزاد احمد

    کس رت کے منتظر ہیں یہ پیڑ راستوں پر

    خود دھوپ میں کھڑے ہیں سایہ مسافروں پر

    مٹی جمی ہوئی تھی جب کوٹ کے کفوں پر

    حیرت ہوئی تھی مجھ کو لوگوں کے قہقہوں پر

    بھیگے ہوئے اندھیرے آسیب بن گئے تھے

    دل ناچنے لگا تھا برسات کی دفوں پر

    مانی تھیں میری باتیں اس نے بگڑ بگڑ کے

    کیا کیا محل ہوئے تھے تعمیر ابروؤں پر

    پھوٹی ہے اک کرن سی بے نور بادلوں سے

    میں ہنس پڑا ہوں شاید اپنے ہی آنسوؤں پر

    آنکھوں کی پتلیوں نے تصویر تک نہ دیکھی

    ابر کرم نہ برسا سوکھے ہوئے لبوں پر

    ناؤ الٹ گئی ہے تختے بکھر گئے ہیں

    چھائی ہے مردنی سی ٹوٹی ہوئی صفوں پر

    پختہ چھتیں تھیں جن کی آنگن تھے صاف ستھرے

    گرنے لگیں چٹانیں آ آ کے ان گھروں پر

    ویرانیوں کے جنگل شاید ہرے بھرے ہوں

    اب جھاڑیاں اگی ہیں آباد راستوں پر

    دیوار پر بسنتی بیلیں چڑھی ہوئی ہیں

    سبزہ اگا ہوا ہے بیٹھی ہوئی چھتوں پر

    جنگل کے اس سفر نے بے حال کر دیا ہے

    میں خاک ڈالتا ہوں گزرے ہوئے دنوں پر

    گھر میں اداس پھرنا آسان ہو گیا ہے

    یا تنگ ہو گئے ہیں رستے مسافروں پر

    یہ اور بات آنکھیں مٹی سے بھر گئی ہیں

    دیکھے ہیں چند چہرے جاتی ہوئی بسوں پر

    شہزادؔ بے دلی کا افسانہ کہہ رہی ہے

    پھیلی ہوئی سیاہی لکھے ہوئے خطوں پر

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے