راستہ منزل مقصود کا دشوار بھی ہے
راستہ منزل مقصود کا دشوار بھی ہے
سر پہ لٹکی ہوئی اندیشوں کی دیوار بھی ہے
تو شناسائے حقیقت ہے یہ تسلیم مجھے
ہاں مگر پاس ترے جرأت اظہار بھی ہے
جو بھی آتا ہے نظر بھائی نظر آتا ہے
کوئی اس شہر میں یوسف کا خریدار بھی ہے
چار تنکوں کے لئے برق کو زحمت کیوں ہو
آشیاں جس پہ ہے وہ شاخ ثمر دار بھی ہے
بہہ رہا ہے مرے رستے میں لہو کا دریا
سامنے آنکھوں کے اک شعلے کی دیوار بھی ہے
ایک گرداب سے مر مر کے سفینہ نکلا
سر پہ طوفان بھی ہے سامنے منجدھار بھی ہے
کس سے پوچھوں گا میں اسباب تباہی واصفؔ
خانقاہوں میں کوئی صاحب اسرار بھی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.