کمر کمر سے ملا کر اکیلا بیٹھا ہوں
کمر کمر سے ملا کر اکیلا بیٹھا ہوں
لحد سے ٹیک لگا کر اکیلا بیٹھا ہوں
دلاسے دے کے سب اپنے گھروں کو لوٹ گئے
میں غم کا بوجھ اٹھا کر اکیلا بیٹھا ہوں
بچا نہیں کوئی حرف تسلی اپنے لیے
شریک غم کو سلا کر اکیلا بیٹھا ہوں
کسی طرح تری موجودگی نہ بن پائی
زمیں کا چاک گھما کر اکیلا بیٹھا ہوں
میں بیٹھتا تھا کبھی اس کے پہلو میں حارثؔ
اب اس کی قبر پہ آ کر اکیلا بیٹھا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.