Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کچھ اس خلوص سے اس نے مجھے دیا پانی

کاشف بیگ کاشف

کچھ اس خلوص سے اس نے مجھے دیا پانی

کاشف بیگ کاشف

MORE BYکاشف بیگ کاشف

    کچھ اس خلوص سے اس نے مجھے دیا پانی

    کہ بار بار میں بس مانگتا رہا پانی

    کسی کے ڈول اٹھانے کی لاج رکھنی پڑی

    اگرچہ پیاس نہیں تھی مگر پیا پانی

    ہمارا پورا اترنا بھی رائیگاں ہی گیا

    کسی نے پاؤں ڈبوئے تو خوش ہوا پانی

    ہر ایک کام مری سوچ کے خلاف ہوا

    کہ میں نے آگ جلائی برس پڑا پانی

    وہ شخص ریت کے ٹیلوں سے کیا گلہ کرتا

    کہ جس کو بر سر دریا نہیں ملا پانی

    کسی کو یاد نہیں ہے ہمارا حسن سلوک

    وہ نیک کام تھا اور اس پہ بہہ چکا پانی

    نمک کا دور پرانا ہے کچھ نیا کیجے

    لیں میرے زخم پہ ڈالیں یہ کھولتا پانی

    کسی کا ساتھ بھی ہونا بہت ضروری ہے

    برائے زندگی کافی نہیں ہوا پانی

    ہمارے ضبط کی توہین ہو گئی کاشفؔ

    حدود چشم سے آگے نکل گیا پانی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے