کچھ اس خلوص سے اس نے مجھے دیا پانی
کچھ اس خلوص سے اس نے مجھے دیا پانی
کہ بار بار میں بس مانگتا رہا پانی
کسی کے ڈول اٹھانے کی لاج رکھنی پڑی
اگرچہ پیاس نہیں تھی مگر پیا پانی
ہمارا پورا اترنا بھی رائیگاں ہی گیا
کسی نے پاؤں ڈبوئے تو خوش ہوا پانی
ہر ایک کام مری سوچ کے خلاف ہوا
کہ میں نے آگ جلائی برس پڑا پانی
وہ شخص ریت کے ٹیلوں سے کیا گلہ کرتا
کہ جس کو بر سر دریا نہیں ملا پانی
کسی کو یاد نہیں ہے ہمارا حسن سلوک
وہ نیک کام تھا اور اس پہ بہہ چکا پانی
نمک کا دور پرانا ہے کچھ نیا کیجے
لیں میرے زخم پہ ڈالیں یہ کھولتا پانی
کسی کا ساتھ بھی ہونا بہت ضروری ہے
برائے زندگی کافی نہیں ہوا پانی
ہمارے ضبط کی توہین ہو گئی کاشفؔ
حدود چشم سے آگے نکل گیا پانی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.