ایک پورس بھی سکندر ہے تمہیں کیا معلوم
ایک پورس بھی سکندر ہے تمہیں کیا معلوم
موم اپنی جگہ پتھر ہے تمہیں کیا معلوم
بھیڑ رشتوں کی بھی ہے اور ہے تنہائی بھی
گھر میں رہ کر کوئی بے گھر ہے تمہیں کیا معلوم
پھول سے ہونٹ بھی کر جاتے ہیں دل کو زخمی
اس کی ہر بات میں خنجر ہے تمہیں کیا معلوم
اشک مجبوروں کے مجبور نہیں ہوتے ہیں
ایک اک بوند سمندر ہے تمہیں کیا معلوم
پیاس بجھتی ہے کہیں ریت کے دریاؤں سے
آب یہ آب کا منظر ہے تمہیں کیا معلوم
چاند اک زخم کی مانند ستارے آنسو
رات بھی ایک ستم گر ہے تمہیں کیا معلوم
زندگی کیا ہے مہیوال سے پوچھے کوئی
ایک گھلتی ہوئی گاگر ہے تمہیں کیا معلوم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.