کچھ اس طرح سے ترا ساتھ مجھ کو حاصل ہے
کچھ اس طرح سے ترا ساتھ مجھ کو حاصل ہے
سیاہ رات میں جیسے کہ نور شامل ہے
تری جھلک سے ملی ہے نظر کو رعنائی
وگرنہ دشت کہاں دیکھنے کے قابل ہے
بکھر رہی ہے فضاؤں میں پھول کی خوشبو
عجب ہے پھول کہ اپنے اثر سے غافل ہے
یہاں کوئی بھی نہیں دور تک نگاہوں میں
یہ دہر ہے کہ کسی اجنبی کی محفل ہے
چلا گیا ہے مصور بنا کے بس خاکہ
کہا یہ شکل بنا رنگ و بو کے کامل ہے
میں راہ اپنی بدل کے تو چل پڑا لیکن
یہ کیا غضب ہے کہ تو ہر جگہ مقابل ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.