اردو غزل کی یہ روایت رہی ہے کہ اس میں بات براہِ راست کہنے کے بجائے رمز و ایما اور اشاریت کے پردے میں کہی جاتی ہے۔ حسرت موہانی کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے غزل کی اس مخصوص اشاریت کو برتتے ہوئے سیاسی جذبات و احساسات کو بیان کیا اور غزل میں احتجاجی نوعیت کی شاعری کا ایک نیا باب رقم کیا۔ انہوں نے عشقیہ شاعری کے پردے میں سامراجی ظلم و استبداد کے خلاف ایسی آواز بلند کی جو آج بھی پوری شدت کے ساتھ محسوس کی جا سکتی ہے۔
حسرت کے دیوانِ اول کا بڑا حصہ ان غزلوں پر مشتمل ہے جو انہوں نے علی گڑھ اور نینی جیل میں قیدِ بامشقت کے دوران لکھیں۔ ان غزلوں میں سیاسی احساس عشقیہ احساس کے ساتھ اس طرح گھل مل گیا ہے کہ بظاہر عاشقانہ لگنے والے اشعار دراصل گہری سیاسی معنویت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی یہ مشہور غزل دیکھیے جس کا مطلع خالص عشقیہ ہے:
رنگ سوتے میں چمکتا ہے طرح داری کا
طرفہ عالم ہے ترے حسن کی بیداری کا
لیکن اسی غزل کا مقطع ان کی قید کی صعوبتوں اور برطانوی استبداد کا پردہ چاک کرتا ہے:
کٹ گیا قید میں ماہِ رمضاں بھی حسرت
گرچہ سامان سحر کا تھا نہ افطاری کا
اس پوری غزل میں 'غمِ قیدِ وفا'، 'رنجِ گرفتاری'، 'جورِ پیہم' اور 'ستم گاری' جیسے الفاظ بظاہر محبوب کے لیے استعمال ہوئے ہیں، لیکن درحقیقت یہ برطانوی سامراج کے جبر کی طرف بلیغ اشارے ہیں۔ حسرت نے 'ہنگامہ فصلِ بہار'، 'جنونِ شوق'، 'طوفانِ بہار' اور 'قفس کا لالہ زار ہونا' جیسی غزلیہ علامتوں کو تحریکِ آزادی کے ولولے اور قید خانے کی صعوبتوں کے متبادل کے طور پر برتا۔
ان کی ایک اور مشہور غزل جس میں وہ براہِ راست حبِ وطن اور آزادی کی بات کرتے ہیں، اس میں بھی غزل کا روایتی رکھ رکھاؤ اور تغزل پوری طرح موجود ہے:
رسمِ جفا کامیاب دیکھیے کب تک رہے
حبِ وطن مستِ خواب دیکھیے کب تک رہے
حسرت نے ثابت کیا کہ اعلیٰ اور سچی شاعری محض موضوع کی پابند نہیں ہوتی۔ انہوں نے عاشقانہ شاعری کی تہذیب کو مجروح کیے بغیر اس میں حریت پسندی، وطن پرستی اور سامراج دشمنی کے جذبات سمو دیے۔ ان کا یہ سیاسی تغزل اس بات کی دلیل ہے کہ وہ محض ایک رومانوی شاعر نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے حساس فنکار تھے جس کے دل کی دھڑکنیں اپنے غلام ملک کی آزادی کے لیے دھڑکتی تھیں۔
