کسی بھی زبان کا ادب اس وقت تک ثروت مند نہیں ہو سکتا جب تک اس میں مختلف خطوں اور ثقافتوں کے تخلیق کار اپنا خونِ جگر شامل نہ کریں۔ اردو ادب کی تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ پچھلے ایک سو برس کے دوران اہلِ پنجاب نے جس نفیس اور خوبصورت انداز میں پنجاب کی روح اور اس کے جوہر کو اردو میں سمویا ہے، اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اہلِ پنجاب کو اردو اور پنجابی کے اس رشتے کا بھرپور احساس ہے جو ایک دریا اور اس کے معاونین کے درمیان استوار ہوتا ہے۔
پنجابی بولنے والوں کا طبقہ ہمیشہ سے محنتی، مہم جو، زیرک اور تخلیقی اعتبار سے انتہائی فعال رہا ہے۔ ان کی اسی مہم جوئی اور تخلیقی فعالیت نے اردو ادب کو وہ شاہکار عطا کیے ہیں جن پر آج اردو زبان بجا طور پر فخر کر سکتی ہے۔ پچھلی ایک صدی کے اردو ادب پر پنجاب کی اتنی گہری چھاپ ثبت ہے کہ اگر ہم اردو ادب کی تاریخ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے نام نکال دیں، تو اردو ادب کا دامن بڑی حد تک مفلس اور تہی نظر آنے لگے گا۔
شاعری کے میدان میں دیکھیں تو علامہ اقبال، حفیظ جالندھری، تلوک چند محروم، میراجی، فیض احمد فیض، ن م راشد، مجید امجد، احمد ندیم قاسمی، راجہ مہدی علی خان، یوسف ظفر، قیوم نظر، ضیا جالندھری، ضمیر جعفری، جعفر طاہر، بلراج کومل، تخت سنگھ اور ناصر کاظمی جیسے عبقری شعرا کا تعلق اسی دھرتی سے تھا۔ ان شعرا نے اردو غزل اور نظم کو نئے استعارے، نئی علامتیں اور ایک نیا فکری آہنگ عطا کیا۔
اسی طرح نثر کے میدان میں سعادت حسن منٹو، غلام عباس، ممتاز مفتی، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، قدرت اللہ شہاب، پطرس بخاری، اشفاق احمد، بلونت سنگھ، رام لعل، مسعود مفتی، کنہیا لال کپور، ابن انشا اور غلام الثقلین نقوی جیسے لاتعداد لکھنے والوں نے اردو افسانے، ناول اور انشائیے کو عالمی معیار تک پہنچایا۔ ان تخلیق کاروں نے پنجاب کے دیہات، وہاں کی ثقافت، دکھ درد اور نفسیات کو اردو کے قالب میں اس طرح ڈھالا کہ وہ پورے برصغیر کا نوحہ اور گیت بن گیا۔
مزید برآں، محسنینِ اردو کے سلسلے میں مولانا ظفر علی خان، غلام رسول مہر، عبدالمجید سالک، مولانا صلاح الدین احمد، فلک پیما، حمید احمد خاں، ڈاکٹر سید عبداللہ، سید علی عباس جلالپوری اور ڈاکٹر وحید قریشی جیسے اکابرین کی خدمات کو فراموش کرنا ناممکن ہے۔ ان تمام حقائق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اردو ادب کی عمارت کی تعمیر میں پنجاب کے ادیبوں اور دانشوروں نے بنیادی ستونوں کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اردو کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور اپنی جنم بھومی کی ساری بو باس، مزاج اور لہجے کو نہایت خوبصورتی سے اردو میں منتقل کر دیا۔
