اردو رسم الخط کو دیوناگری سے بدلنے کے مشوروں کے پیچھے شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ جذبہ کارفرما ہوتا ہے کہ اردو کا موجودہ رسم الخط 'غیر ملکی' ہے۔ یہ ایک بہت بڑا تاریخی اور لسانی مغالطہ ہے جس کا ازالہ بے حد ضروری ہے۔ یہ سچ ہے کہ اردو نے اپنے رسم الخط کی بنیاد عرب و ایران سے لی، لیکن اس نے اسے جوں کا توں قبول نہیں کیا بلکہ ہندوستانی مزاج کے سانچے میں ڈھال کر اسے اپنا بنا لیا۔
اردو ایک مخلوط زبان ہے جس نے ہندوستان، عرب اور ایران کی تہذیبوں سے استفادہ کیا ہے۔ اس کا رسم الخط اشتراک اور ارتباط کی ایک عظیم الشان مثال ہے۔ ہم نے فارسی رسم الخط سے 34 علامتیں مستعار لیں، لیکن ہند آریائی صوتیاتی نظام کو پورا کرنے کے لیے اس میں بنیادی تبدیلیاں کیں۔ اردو والوں نے دو حروف علت اور چودہ حروف صحیح (بھ، پھ، تھ، دھ، جھ، چھ، کھ، گھ، ٹ، ڈ، ڑ، ٹھ، ڈھ، ڑھ) یعنی کل سولہ علامتوں کا اضافہ کر کے ایک نیا اور ملا جلا رسم الخط وضع کیا۔
یہ سولہ علامتیں اردو رسم الخط کو خالصتاً ہندوستانی بناتی ہیں۔ جس رسم الخط میں ایک تہائی علامتوں کا اضافہ مقامی تاریخی اور تہذیبی ضرورتوں کی بنا پر ہوا ہو، اسے غیر ملکی کیسے کہا جا سکتا ہے؟ اس توسیع شدہ صورت میں عرب اور ایرانی بھی اس رسم الخط کو اپنا کہنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عرب اور ایرانی طلبہ کو اردو کی معکوسی (Retroflex) اور ہکار (Aspirated) آوازوں اور ان کی علامتوں پر عبور حاصل کرنے کے لیے مہینوں کی سخت مشق درکار ہوتی ہے۔
اس کے برعکس، ہندی والے اردو کی پانچ صفیری (Spirant) آوازوں (ف، ز، ژ، خ، غ) اور بندشی 'ق' کو اپنے رسم الخط میں پوری طرح نہیں اپنا سکے۔ اردو رسم الخط نے پچھلی کئی صدیوں کے دوران ہندوستانی مٹی سے جو رشتہ استوار کیا ہے، وہ اسے ایک دیسی اور مقامی رسم الخط بناتا ہے۔ اسے غیر ملکی سمجھ کر ترک کرنے کی بات کرنا دراصل ہندوستان کی اس مشترکہ تہذیب سے انکار ہے جس نے اس رسم الخط کو جنم دیا۔
