Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

چاہت کے بازار میں رہ کر جینا میری پہلی بھول

احمد ظفر

چاہت کے بازار میں رہ کر جینا میری پہلی بھول

احمد ظفر

MORE BYاحمد ظفر

    چاہت کے بازار میں رہ کر جینا میری پہلی بھول

    ایک طرف کچھ پھول کھلے ہیں ایک طرف ہے دھول ہی دھول

    سانولے چہرے میرے دل کو درد انوکھا دیتے ہیں

    مٹی پر بکھرے دیکھے ہیں گورے بدن کے کومل پھول

    دیپ جلے تو ایک پتنگا بات انوکھی کہتا ہے

    ایک بھی ہونٹ نہیں ہلتا ہے ٹوٹ رہے ہیں کتنے اصول

    شبنم بوجھ بنی تو بکھری پتھر بوجھ بنا تو مان

    شاخ گلاب کی کاٹ رہے ہیں کارن ہے پوجا کا ببول

    چنتا کے آکاش کے تارے ابھرے پل بھر ڈوب گئے

    بن آنکھوں کے کس نے دیکھے راگ رنگ سے کھلتے پھول

    ریت پہ چتر بنانے والی گوری نے کب مانی بات

    پون چلی تو چاروں جانب اڑتی دیکھی دھول ہی دھول

    لوگ کویتا پڑھتے پڑھتے گہری نیند میں ڈوب گئے

    تو بھی اپنے سپنے لے کر چاند نگر کا جھولا جھول

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے