چاہت کے بازار میں رہ کر جینا میری پہلی بھول
چاہت کے بازار میں رہ کر جینا میری پہلی بھول
ایک طرف کچھ پھول کھلے ہیں ایک طرف ہے دھول ہی دھول
سانولے چہرے میرے دل کو درد انوکھا دیتے ہیں
مٹی پر بکھرے دیکھے ہیں گورے بدن کے کومل پھول
دیپ جلے تو ایک پتنگا بات انوکھی کہتا ہے
ایک بھی ہونٹ نہیں ہلتا ہے ٹوٹ رہے ہیں کتنے اصول
شبنم بوجھ بنی تو بکھری پتھر بوجھ بنا تو مان
شاخ گلاب کی کاٹ رہے ہیں کارن ہے پوجا کا ببول
چنتا کے آکاش کے تارے ابھرے پل بھر ڈوب گئے
بن آنکھوں کے کس نے دیکھے راگ رنگ سے کھلتے پھول
ریت پہ چتر بنانے والی گوری نے کب مانی بات
پون چلی تو چاروں جانب اڑتی دیکھی دھول ہی دھول
لوگ کویتا پڑھتے پڑھتے گہری نیند میں ڈوب گئے
تو بھی اپنے سپنے لے کر چاند نگر کا جھولا جھول
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.