بیان شوق میں نازک مقاموں سے گزرنا ہے
بیان شوق میں نازک مقاموں سے گزرنا ہے
مجھے تیرے سکوت ناز سے کچھ عرض کرنا ہے
نہ جینے کی طرح جینا نہ مرنے کی طرح مرنا
یہ جینا کوئی جینا ہے یہ مرنا کوئی مرنا ہے
نہ سمجھیں حرف آخر آج کے دور تمدن کو
بہت کچھ نظم انسانی کو بننا ہے سنورنا ہے
مگر وہ بات کیا ہے عمر بھر کھلنے نہیں پایا
یہی سوچا کیا تجھ سے مجھے کچھ بات کرنا ہے
یہ مانا زندگی ہے نام آگے بڑھتے رہنے کا
اسی ہلچل میں مجھ کو تجھ سے دو اک بات کرنا ہے
عبارت ہے یہ دنیا کچھ لکیروں کچھ صداؤں سے
یہاں کچھ رنگ بھرنا ہے وہاں کچھ درد بھرنا ہے
فراقؔ اوروں کو سطح زندگی سے کھیل لینے دو
ہماری شاعری کو اور ہی کچھ کام کرنا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.