Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بیان شوق میں نازک مقاموں سے گزرنا ہے

فراق گورکھپوری

بیان شوق میں نازک مقاموں سے گزرنا ہے

فراق گورکھپوری

MORE BYفراق گورکھپوری

    بیان شوق میں نازک مقاموں سے گزرنا ہے

    مجھے تیرے سکوت ناز سے کچھ عرض کرنا ہے

    نہ جینے کی طرح جینا نہ مرنے کی طرح مرنا

    یہ جینا کوئی جینا ہے یہ مرنا کوئی مرنا ہے

    نہ سمجھیں حرف آخر آج کے دور تمدن کو

    بہت کچھ نظم انسانی کو بننا ہے سنورنا ہے

    مگر وہ بات کیا ہے عمر بھر کھلنے نہیں پایا

    یہی سوچا کیا تجھ سے مجھے کچھ بات کرنا ہے

    یہ مانا زندگی ہے نام آگے بڑھتے رہنے کا

    اسی ہلچل میں مجھ کو تجھ سے دو اک بات کرنا ہے

    عبارت ہے یہ دنیا کچھ لکیروں کچھ صداؤں سے

    یہاں کچھ رنگ بھرنا ہے وہاں کچھ درد بھرنا ہے

    فراقؔ اوروں کو سطح زندگی سے کھیل لینے دو

    ہماری شاعری کو اور ہی کچھ کام کرنا ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے